انگلینڈ کے ہاتھوں لارڈز ٹیسٹ میں ہونے والی شرمناک شکست کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے قومی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کر ڈالیں۔ بورڈ نے باضابطہ طور پر سات کھلاڑیوں کو ٹیسٹ اسکواڈ سے فارغ کر دیا ہے، جبکہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور باؤلنگ کوچ عمر گل کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ابتدائی طور پر چھ کرکٹرز کو ہنگامی طور پر پاکستان سے انگلینڈ طلب کیا گیا تھا، جن میں صائم ایوب اور عرفات منہاس بھی شامل تھے، جس کے بعد بعد ازاں مکمل باضابطہ تبدیلیوں کا اعلان کر دیا گیا۔
سنڈے کو لارڈز کے میدان میں پاکستان کو 389 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے محض 194 رنز پر آل آؤٹ ہونا پڑا، جس سے ٹیم کو 194 رنز کی بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سعود شکیل کے جانفشانی بھری 97 رنز کی اننگز کے سوا کوئی بھی پاکستانی بلے باز انگلش باؤلنگ اٹیک کا مقابلہ نہ کر سکا۔ اولی رابنسن، جوش ٹونگ اور تیز رفتار جوفرا آرچر نے سیمنگ کنڈیشنز میں پاکستانی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔ رابنسن نے میچ میں آٹھ وکٹیں حاصل کیں اور سیریز میں اب تک ان کے کھاتے میں 16 وکٹیں جمع ہو چکی ہیں۔ اس سے قبل ہیڈنگلے میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں بھی پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا، جس سے پاکستان اپنے حالیہ چھ ٹیسٹ میچوں میں پانچویں شکست سے دوچار ہوا۔
پی سی بی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محمد رضوان، امام الحق، سلمان علی آغا، علی عثمان، عامر جمال، محمد اویس ظفر اور خرم شہزاد سمیت کل سات کھلاڑیوں کو ٹیسٹ اسکواڈ سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ ان میں سابق وائٹ بال کپتان سلمان علی آغا اور وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان جیسے سینئر نام بھی شامل ہیں۔
امام الحق کی مبینہ انجری بھی شدید تنقید کی زد میں رہی۔ وہ لارڈز ٹیسٹ کے پہلے دن پنڈلی کی چوٹ کا شکار ہوئے تھے اور دونوں اننگز میں بیٹنگ کے لیے میدان میں نہیں اتر سکے، حالانکہ توقع تھی کہ وہ دردکش انجیکشن لگوانے کے بعد بیٹنگ کریں گے۔ چوتھے دن کی صبح وارم اپ کے دوران ان کی میدان میں موجودگی نے مزید سوالات کھڑے کر دیے۔ اطلاعات کے مطابق پی سی بی امام الحق کی حالیہ انجری کے پس منظر کی تحقیقات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، خاص طور پر 2025 میں نیوزی لینڈ کے دورے کے دوران بھی ان کی فٹنس سے متعلق سوالات اٹھ چکے ہیں۔ سابق انگلش باؤلر اسٹورٹ براڈ نے بھی امام الحق کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے اسے "دکھاوے” سے تعبیر کیا تھا۔
محمد رضوان کو ناقص اور غیرذمہ دارانہ بیٹنگ کی بنا پر وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دوسری اننگز میں وہ محض ایک رن بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ 389 رنز کے تعاقب میں پاکستان کو 14 رنز پر تین کھلاڑیوں کے نقصان کے بعد رضوان سے بحالی کی امید تھی، تاہم وہ اس دباؤ کو برداشت نہ کر سکے۔
پی سی بی نے ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور باؤلنگ کوچ عمر گل کو بھی فارغ کر دیا ہے۔ ان کی جگہ مائیک ہیسن کو نیا ہیڈ کوچ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ایشلے نوفکے نئے باؤلنگ کوچ کی ذمہ داری سنبھالیں گےپی سی بی نے فارغ کیے گئے سات کھلاڑیوں کی جگہ سات نئے کرکٹرز کو ٹیم میں شامل کیا ہے، جن میں پانچ ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے ابھی تک ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو نہیں کیا۔ ٹیسٹ کیپڈ کھلاڑیوں میں صائم ایوب، جو اب تک آٹھ ٹیسٹ کھیل چکے ہیں، اور عبداللہ فضل، جنہوں نے دو ٹیسٹ میچز میں حصہ لیا ہے، شامل ہیں۔ آل راؤنڈر عرفات منہاس، جن کا ٹیسٹ ڈیبیو ابھی باقی ہے، وائٹ بال کرکٹ میں تین ون ڈے اور چار ٹی20 میچز کھیل چکے ہیں۔ باقی چار کھلاڑی مکمل طور پر انکیپڈ ہیں، جن میں بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز محمد عمران جونیئر بھی شامل ہیں جنہیں پہلی مرتبہ ٹیسٹ اسکواڈ میں طلب کیا گیا ہے۔ وکٹ کیپر بلے باز سعد بیگ، جنہیں 2025-26 کے قائداعظم ٹرافی میں بہترین کھلاڑی کا اعزاز مل چکا ہے، بھی نئے چہروں میں شامل ہیں۔
بابر اعظم (کپتان)، عبداللہ فضل، عبداللہ شفیق، عرفات منہاس، اعزان اویس، محمد عباس، محمد علی، محمد عمران، محمد عمران جونیئر، محمد غازی غوری (وکٹ کیپر)، رضاء اللہ، سعد بیگ (وکٹ کیپر)، صائم ایوب، ساجد خان، سعود شکیل، شان مسعود اور عبید شاہ اسکواڈ کا حصہ ہوں گے۔
پاکستان انگلینڈ کے خلاف تین میچوں کی سیریز میں پہلے ہی دونوں ابتدائی ٹیسٹ ہار کر سیریز 0-2 سے گنوا چکا ہے۔ اب تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم کے ایجبسٹن گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا، جہاں پاکستانی ٹیم کے پاس سیریز میں کچھ عزت بچانے کا آخری موقع ہوگا۔ شکست کے بعد لندن میں ٹیم مینجمنٹ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا تھا، جس میں یہ تمام فیصلے کیے گئے۔