راولپنڈی، اسلام آباد میں موسلادھار بارش نے نظام زندگی مفلوج کردیا: عام تعطیل، فوج الرٹ، نالہ لئی خطرناک سطح تک بلند

جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر راولپنڈی میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ نالہ لئی میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافے کے باعث خطرے کے سائرن بجا دیے گئے اور اس کے کنارے آباد نشیبی علاقوں کے مکینوں کو فوری طور پر گھر خالی کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ایک روز قبل ہی اسلام آباد سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں یکم تا 3 ستمبر شدید موسلادھار بارشوں کا الرٹ جاری کر کے ممکنہ سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کر دیا تھا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق اس دوران اسلام آباد، بالائی پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر میں مزید بارش کا امکان ہے۔

کٹاریاں کے مقام پر نالہ لئی میں پانی کی سطح ابتدا میں 14.5 فٹ تک پہنچی، جس سے پری الرٹ لیول عبور ہوگیا۔ بعد ازاں مسلسل بارش کے باعث یہ سطح مزید بڑھتے ہوئے 18.5 فٹ تک جا پہنچی۔ اسی طرح گوالمنڈی کے مقام پر بھی پانی کی سطح 7 فٹ سے بڑھ کر 11 فٹ ریکارڈ کی گئی۔ انتظامیہ کے مطابق اسلام آباد کی جانب سے ایک بڑا سیلابی ریلا راولپنڈی کی طرف بڑھ رہا ہے، جس کے پیش نظر بروقت انخلا کا حکم جاری کیا گیا۔

اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں ریکارڈ کی گئی بارش میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ نیو کٹاریاں میں 120 ملی میٹر، گولڑہ میں 119 ملی میٹر اور شمس آباد میں 104 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی، جبکہ اس سے قبل ان ہی مقامات پر بالترتیب 101، 90 اور 75 ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔ نالہ لئی کے کیچمنٹ ایریاز میں شدید بارش کے پیشِ نظر رین الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، اور انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ مزید بارش سے پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو کر سیلابی ریلے کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

واسا راولپنڈی کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے مطابق نالہ لئی سمیت شہر کے تمام نالوں کی مسلسل نگرانی جاری ہے اور عملہ بھاری مشینری کے ساتھ فیلڈ میں تعینات ہے۔ دوسری جانب ریسکیو 1122 راولپنڈی کے ترجمان نے بتایا کہ ادارہ ہائی الرٹ پر ہے اور ریسکیو اہلکاروں کو کٹاریاں، گوالمنڈی اور دیگر نشیبی علاقوں میں تعینات کر دیا گیا ہے، جو بارش کے دوران مسلسل ڈیوٹی پر موجود رہیں گے۔

شدید بارش اور سیلابی خطرے کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے مقامی تعطیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کے مطابق یکم ستمبر بروز منگل راولپنڈی کی حدود میں مقامی تعطیل رہی۔ اس دوران تمام متعلقہ سرکاری و نجی ادارے بند رہے، تاہم ہنگامی نوعیت کے محکمے، ادارے اور اتھارٹیز معمول کے مطابق فرائض انجام دیتی رہیں۔

ضلعی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کریں اور نالہ لئی سمیت دیگر نشیبی علاقوں کے قریب جانے سے اجتناب برتیں۔ خاص طور پر نالہ لئی کے کنارے آباد افراد کو فوری طور پر علاقہ خالی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی۔

بارش کے پانی کی وجہ سے اسلام آباد ایکسپریس وے پر متعدد گاڑیاں سڑک پر پھنس گئیں۔ اطلاعات کے مطابق بعض گاڑیاں مسلسل دو گھنٹے سے زائد عرصے تک ایکسپریس وے پر پھنسی رہیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے میڈیا کو بتایا کہ پاک فوج امدادی اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے اور ٹرپل ون بریگیڈ بھی ضلعی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہے، تاہم فی الحال بریگیڈ کو باضابطہ طور پر طلب نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح میں ایک فٹ کی کمی واقع ہوئی ہے اور بارش تھم چکی ہے، جس کے باعث توقع ہے کہ اگلے دو گھنٹوں میں صورتحال میں بہتری آئے گی۔

واضح رہے کہ جڑواں شہروں میں یہ مون سون سیزن کے دوران وقفے وقفے سے شدید بارشوں کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل بھی نالہ لئی میں کئی بار طغیانی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے اور بعض مواقع پر پانی کی سطح 20 فٹ سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث دریائے سواں میں بھی طغیانی آئی تھی اور پاک فوج کو ریسکیو آپریشنز میں شامل ہونا پڑا تھا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ ابھی جاری رہنے کا امکان ہے، اس لیے شہریوں کو مزید احتیاط برتنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔