امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ نئی امریکی پابندیوں کے باعث 23 ستمبر سے ایرانی ایئرلائنز کے لیے دنیا بھر میں اپنا فضائی آپریشن جاری رکھنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’’23 ستمبر کو تمام ایرانی ایئرلائنز پوری دنیا میں مکمل طور پر بند ہو جائیں گی۔‘‘
اسکاٹ بیسنٹ نے واضح کیا کہ اگر کوئی ایرانی طیارہ کہیں بھی لینڈ کرتا ہے، تو اسے ایندھن یا لینڈنگ کی سہولیات فراہم نہیں کی جا سکیں گی، نہ ہی اس کے ٹکٹ فروخت کیے جا سکیں گے، بصورتِ دیگر متعلقہ ادارہ امریکی ڈالر کے مالیاتی نظام سے خارج کر دیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ پابندیاں صرف ایرانی فضائی کمپنیوں تک محدود نہیں بلکہ بیرونِ ملک موجود وہ ہوائی اڈے، ایندھن فراہم کرنے والے ادارے اور ٹکٹنگ کمپنیاں بھی اس کی زد میں آئیں گی جو کسی بھی صورت ایرانی طیاروں کو سہولت پہنچائیں گی۔
امریکی محکمہ خزانہ نے رواں ماہ کے آغاز میں ہی ایران کی باقی ماندہ 27 ایئرلائنز سمیت ہوابازی کے شعبے سے جڑے متعدد اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں، جن میں ایران کی بڑی نجی فضائی کمپنی ماہان ایئر بھی شامل ہے۔ بیسنٹ کے مطابق یہ پابندیاں ان اختیارات کے تحت عائد کی جا رہی ہیں جو نائن الیون کے بعد امریکی صدر کو دیے گئے تھے، اور ان کا مقصد ایران کی حکومت کو مدد پہنچانے والے ’’معاونین‘‘ کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا مصر، ترکیہ اور روس کے بینکوں سمیت ایران کی مدد کرنے والے مالیاتی اداروں پر بھی ثانوی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔
امریکی وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ ایرانی پابندیوں پر مؤثر عملدرآمد کے سلسلے میں چینی مالیاتی حکام سے بھی مسلسل بات چیت جاری ہے، اور ان کے بقول چینی حکام اس معاملے میں کافی سرگرم اور متحرک نظر آ رہے ہیں۔
اس اعلان میں ایک دلچسپ تضاد بھی سامنے آیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور ان کا وفد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے پابندیوں کے نفاذ سے ایک روز قبل ہی، یعنی منگل کو، نیویارک پہنچنے کی توقع رکھتے ہیں، جبکہ ان کا باضابطہ خطاب بدھ کے روز ہی متوقع ہے، یعنی عین اسی دن جب پابندیاں مؤثر ہوں گی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی حکام کے ساتھ سفارتی بات چیت کا نادر موقع بھی فراہم کر سکتی ہے۔
تاحال ایرانی حکومت کی جانب سے ان تازہ پابندیوں یا امریکی وارننگ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ایرانی حکام ماضی میں بارہا ایسی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ کچھ برسوں میں پابندیوں کے باعث پرزہ جات کی کمی اور فرسودہ طیاروں کے استعمال کی وجہ سے ایرانی ہوابازی کے شعبے کو کئی بڑے حادثات کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تازہ پابندیاں ایسے وقت میں عائد کی جا رہی ہیں جب ایران، اسرائیل اور امریکا کے مابین جاری جنگ کے باعث ایران کو شدید توانائی بحران کا سامنا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد ایرانی حکومت کو ہتھیاروں، اہلکاروں اور غیر قانونی سامان کی نقل و حمل سے روکنا ہے، جس کے ذریعے وہ خطے میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔