نیویارک: وزیراعظم محمد شہباز شریف اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کے لیے ایک مختصر وفد کے ہمراہ نیویارک پہنچ گئے۔ ایئرپورٹ پر ان کا استقبال اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کیا۔ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے وفد میں شامل ہیں۔
وزیراعظم کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کا بحران عالمی رہنماؤں کے درمیان جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی مباحثے پر چھایا ہوا ہے۔ توقع ہے کہ خلیجی خطے کی کشیدگی جنرل ڈیبیٹ کے دوران زیادہ تر گفتگو پر اثرانداز ہوگی۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا اعلیٰ سطحی جنرل ڈیبیٹ 22 سے 26 اور 28 ستمبر تک جاری رہے گا، جس کا موضوع ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایک اقوامِ متحدہ جو سب کے لیے کام کرے‘‘ رکھا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف 25 ستمبر 2026ء کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جس میں وہ علاقائی اور عالمی سلامتی کی بدلتی ہوئی صورتحال پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور تنازعات کے حل کے لیے مکالمے، سفارت کاری، تحمل اور پرامن ذرائع اختیار کرنے کی اہمیت پر زور دیں گے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اتوار کے روز نیویارک میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کثیرالجہتی تعاون، موسمیاتی تبدیلی اور موجودہ عالمی صورتحال بھی وزیراعظم کے خطاب کا حصہ ہوں گے۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی فعال سفارتی و ثالثی کوششوں کو اجاگر کریں گے، جبکہ پائیدار ترقی، دہشت گردی کے خلاف جنگ، اسلامو فوبیا اور عالمی اقتصادی چیلنجز سمیت اہم امور پر بھی پاکستان کی ترجیحات بیان کریں گے۔ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ مسائل، قبضے اور حقِ خودارادیت سے محرومی کی جانب بھی عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائیں گے اور اس ضمن میں متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کی اہمیت اجاگر کریں گے
پاکستانی مندوب کے مطابق وزیراعظم دورے کے دوران کئی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان، ایپل کے ایگزیکٹو چیئرمین ٹِم کک کے ساتھ بھی وزیراعظم کی ملاقات کا اہتمام کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو پاکستان کی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبے میں عالمی روابط بڑھانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار دورے کے دوران اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جموں و کشمیر رابطہ گروپ کے اجلاس میں شرکت کریں گے، جہاں وہ کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی ’’غیر متزلزل حمایت‘‘ کو اجاگر کریں گے۔ اسحاق ڈار کا نیویارک پہنچنے پر استقبال بھی پاکستانی مستقل مندوب عاصم افتخار احمد، امریکا میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ، نیویارک میں پاکستانی قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی اور دیگر عہدیداروں نے کیا۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کے مطابق کثیرالجہتی تعاون، اقوامِ متحدہ میں اصلاحات اور پائیدار ترقی کے اہداف بھی پاکستانی وفد کے اہم نکات میں شامل ہوں گے۔ دورے کے دوران وزیراعظم ترقی، موسمیاتی اقدامات اور دیگر عالمی امور سے متعلق متعدد اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں بھی شرکت کریں گے اور ان فورمز پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے، جبکہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔