بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سیکیورٹی فورسز نے ایک اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے کالعدم گروہ فتنۃ الہندوستان کے کمانڈر نقیب سمیت تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے خلاف جاری وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی گاڑی کو انتہائی درست نشانہ بازی کے ساتھ کواڈ کاپٹر کے ذریعے نشانہ بنایا۔ اس عین وقت پر کی گئی کارروائی کے نتیجے میں گاڑی میں سوار تینوں دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے اور ان کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ ہلاک ہونے والوں میں کمانڈر نقیب بھی شامل تھا، جو تنظیم کا ایک اہم رہنما سمجھا جاتا تھا۔حالیہ عرصے میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں کواڈ کاپٹر اور دیگر جدید ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال نمایاں طور پر بڑھا ہے۔ اس طرح کی درست نشانہ بازی والی کارروائیوں سے نہ صرف دہشت گردوں کو براہِ راست نشانہ بنایا جا سکتا ہے بلکہ اردگرد کے شہری آبادی کو کم سے کم خطرے میں ڈالتے ہوئے کارروائی مکمل کی جا سکتی ہے، جو دشوار گزار اور دور دراز پہاڑی علاقوں میں خاص طور پر مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔
یہ تازہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صرف ایک ہفتہ قبل ہی سیکیورٹی فورسز نے خاران اور واشک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 11 بھارتی سرپرستی یافتہ دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا، جس میں 2.9 ٹن دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔ مستونگ میں تازہ کامیابی اسی مسلسل مہم کی ایک اور کڑی ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ سیکیورٹی فورسز صوبے کے مختلف اضلاع میں بیک وقت اور تسلسل کے ساتھ کارروائیاں کر رہی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ فورسز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک علاقے سے آخری دہشت گرد کا بھی خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ یہ بیان بلوچستان میں جاری "عزمِ استحکام” مہم کے مقاصد سے مطابقت رکھتا ہے، جس کا مقصد غیر ملکی سرپرستی میں پلنے والی دہشت گردی کو مکمل طور پر جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران پاکستان میں تشدد سے ہونے والی اموات میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا مجموعی حصہ تقریباً 96 فیصد رہا۔ رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں کل ہلاکتوں میں سے 61 فیصد سے زائد یعنی 475 افراد خیبرپختونخوا میں جبکہ 34 فیصد یعنی 265 افراد بلوچستان میں ہلاک ہوئے۔ اسی طرح تشدد کے واقعات میں بھی خیبرپختونخوا سرِفہرست رہا، جہاں ملک بھر کے 151 واقعات میں سے 57 فیصد رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں تسلسل موجود ہے، تاہم دونوں صوبوں میں عسکریت پسندی کا چیلنج بدستور برقرار ہے۔
مستونگ ضلع ماضی میں بھی کئی بڑے پرتشدد واقعات کا مرکز رہا ہے، جن میں 2023 میں عید میلاد النبیؐ کے جلوس پر ہونے والا خودکش دھماکہ بھی شامل ہے جس میں 60 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اسی طرح 2025 میں بھی مستونگ میں بلوچستان کانسٹیبلری کی بس کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ علاقے کی تزویراتی اہمیت، معدنی وسائل اور پیچیدہ نسلی ساخت اسے عسکریت پسندی کے لیے ایک حساس مقام بناتی ہے، جس کے باعث سیکیورٹی فورسز کو یہاں مسلسل چوکنا رہنا پڑتا ہے۔
مستونگ میں کمانڈر نقیب کی ہلاکت فتنۃ الہندوستان کی صف بندی کو ایک اور بڑا دھچکا قرار دی جا رہی ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ حالیہ ہفتوں میں سیکیورٹی فورسز کو بلوچستان کے مختلف اضلاع میں یکے بعد دیگرے کامیابیاں مل رہی ہیں۔ تاہم صوبے میں جاری تشدد کے بلند اعداد و شمار اس بات کی یاد دہانی بھی کراتے ہیں کہ محض انفرادی کارروائیاں کافی نہیں بلکہ ایک طویل اور مسلسل حکمتِ عملی ہی خطے میں پائیدار امن کی ضامن بن سکتی ہے