آبنائے ہرمز پر ایران-خلیجی ممالک کا اہم اجلاس آخری لمحات میں ملتوی: خلیجی اتحاد میں دراڑیں بے نقاب

عمان کے شہر صلالہ میں ایران اور خلیجی ممالک کے مابین آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ہونے والا انتہائی اہم اجلاس آخری لمحات میں ملتوی کر دیا گیا ہے۔ عمانی وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی نے اتوار کی رات دیر گئے اعلان کیا کہ صلالہ میں پیر کو ہونے والا علاقائی اجلاس "اتفاقِ رائے کے مفاد میں” ملتوی کیا جا رہا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق یہ فیصلہ ایران اور عمان نے کچھ علاقائی ممالک کی درخواست پر مشترکہ طور پر کیا۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق یہ اجلاس دراصل آبنائے ہرمز سے عارضی طور پر بحری جہاز رانی بحال کرنے کے ایک عمانی منصوبے پر تبادلہ خیال کے لیے بلایا گیا تھا۔ سی این این کے مطابق ایران اور عمان کے مابین پہلے ہی ایک "راستے کی تفہیم” پر اتفاق ہو چکا تھا، اور اس اجلاس میں دیگر خلیجی ممالک کو محض اس منصوبے کے بارے میں بریف کیا جانا تھا، نہ کہ انہیں حقیقی مذاکرات میں شریک کیا جانا تھا۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس اہم اجلاس میں امریکہ، جو اس پورے تنازع کا ایک بنیادی فریق ہے، شریک ہی نہیں تھا۔

اجلاس کے التوا کی سب سے بڑی وجہ بحرین کی جانب سے شرکت سے صاف انکار قرار دی جا رہی ہے۔ بحرین کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ "مملکتِ بحرین اس اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔” بحرین کا مؤقف ہے کہ جب تک ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال نہیں ہوتے، وہ کسی بھی ایسے اجلاس کا حصہ نہیں بنے گا جس میں ایرانی حکام شریک ہوں۔ اس کے علاوہ بحرین نے یہ بھی اصرار کیا کہ آبنائے ہرمز کسی امتیاز، فیس یا اجازت نامے کے بغیر تمام ممالک کے لیے کھلا ہونا چاہیے۔

برطانوی جریدے "دی ویک” کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق خلیجی ممالک ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے کے طریقہ کار پر شدید تقسیم کا شکار ہیں۔ متحدہ عرب امارات خاموش سفارت کاری کی راہ اپنائے ہوئے ہے اور حال ہی میں نئی دہلی میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایرانی حکام سے ابتدائی بات چیت بھی کر چکا ہے۔ اس کے برعکس بحرین نے مکمل طور پر ملاقات سے انکار کر دیا، جبکہ سعودی عرب اور قطر ایک محتاط درمیانی راستہ اپنائے ہوئے ہیں—وہ شریک ہونے کو تیار تو ہیں مگر آبنائے ہرمز پر ایرانی مؤقف کو تقویت دینے کے تاثر سے بھی محتاط ہیں۔ تہران کے مطابق اجلاس میں عراق اور خلیجی ممالک شریک ہونے تھے، تاہم عراق کے سوا کسی بھی خلیجی ملک نے باضابطہ طور پر شرکت کی تصدیق نہیں کی تھی۔

رپورٹس کے مطابق ایران آبنائے ہرمز کو، اگرچہ محدود پیمانے پر ہی سہی، کھولنے کے لیے امریکی پابندیوں کے خاتمے اور اپنے منجمد بیرونی اثاثوں کی بحالی جیسی رعایتوں کا خواہاں ہے۔ ایران پہلے ہی اس آبی گزرگاہ پر اپنے مکمل کنٹرول کے دعوے کے ساتھ بحری جہازوں سے گزرنے کی فیس وصول کرنے کے حق کا اشارہ دے چکا ہے، جسے امریکہ اور دیگر ممالک شدت سے مسترد کر چکے ہیں، کیونکہ بین الاقوامی قانون کے تحت آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ تصور کی جاتی ہے، جو کسی ایک ملک کی ملکیت میں نہیں۔

آئرلینڈ کے دورے پر موجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اجلاس کے حوالے سے کہا کہ انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ خلیجی ممالک ایران سے ملاقات کرتے ہیں یا نہیں، اور یہ فیصلہ مکمل طور پر ان ممالک پر منحصر ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نجی طور پر خلیجی رہنماؤں کو بتا چکے ہیں کہ وہ مستقبل میں ایران کے ساتھ کسی بھی امریکی مذاکرات کا مرکز ایرانی جوہری پروگرام کو بنانا چاہتے ہیں، نہ کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کو۔

فروری کے آخر سے جاری جنگ کے دوران آبنائے ہرمز پہلے ایرانی اور بعد ازاں امریکی ناکہ بندی کا شکار رہا ہے۔ خیال رہے کہ جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل اسی آبی گزرگاہ سے ہوتی تھی، تاہم اب بحری ٹریفک انتہائی محدود سطح پر ہے۔ صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ فی الحال امریکی بحریہ کی جانب سے تیل بردار جہازوں کی رہنمائی جاری ہے اور آبنائے کی موجودہ صورتحال قابلِ قبول ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ خطے کے ممالک کے درمیان بنیادی اجلاس تک ملتوی ہونے سے عالمی تیل کی قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

عمانی وزیرِ خارجہ بدر البوسعیدی نے واضح کیا کہ خطے میں استحکام اور دیرپا تعاون کے لیے مثبت اور تعمیری مذاکرات کو فروغ دینے کا عزم برقرار ہے۔ اگرچہ اجلاس کی نئی تاریخ کا فی الحال کوئی اعلان نہیں کیا گیا، تاہم عمان، جو آبنائے ہرمز کے ساتھ سرحد رکھتا ہے اور ایران کے ساتھ طویل عرصے سے مذاکرات میں مصروف ہے، خطے میں سفارتی پل کا کردار جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اجلاس کا التوا کسی معاہدے کی طرف پیش رفت نہیں بلکہ خطے میں گہرے اختلافات کی عکاسی کرتا ہے۔ جب تک خلیجی ممالک ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے کے مشترکہ طریقہ کار پر متفق نہیں ہوتے، اس نوعیت کے اجلاسوں کا انعقاد مشکل ہی رہے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ محض اجلاس کی نئی تاریخ کا تعین اس بنیادی تقسیم کو ختم نہیں کر سکے گا، اور جب تک آبنائے ہرمز کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی، عالمی توانائی منڈی پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔