ایران کا سعودی عرب، اردن اور جاپان کو سخت انتباہ: "قرارداد کی حمایت مہنگی پڑے گی

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سعودی عرب، اردن اور جاپان کو خبردار کیا ہے کہ ایران مخالف قرارداد کی حمایت ان ممالک کے لیے مہنگی ثابت ہوگی۔ سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطے کے مسائل کا حل بیرونی مداخلت کے بغیر صرف باہمی بات چیت میں مضمر ہے، اور اس تناظر میں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کو ایک اہم سفارتی کامیابی قرار دیا۔

اگرچہ بقائی نے اپنے بیان میں مخصوص قرارداد کا نام نہیں لیا، تاہم یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے بورڈ آف گورنرز میں ایک قرارداد پیش کی تھی، جس کا مقصد ایران کو اس کی جوہری عدم پھیلاؤ کی ذمہ داریوں کی مبینہ خلاف ورزی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو رپورٹ کرنا تھا۔ جاپان، جو آئی اے ای اے کے بورڈ کا رکن ہے، سمیت متعدد ممالک نے اس قرارداد کی حمایت کی تھی۔ اس کے علاوہ مارچ 2026 میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بحرین کی جانب سے خلیجی تعاون کونسل اور اردن کی نمائندگی میں پیش کی گئی قرارداد 2817 بھی منظور ہو چکی ہے، جس میں ایران کے سعودی عرب، اردن اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی تھی اور 135 رکن ممالک نے اس کی شریک سرپرستی کی تھی۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں ایک اہم اور غیر روایتی جملہ استعمال کیا کہ ایران فی الحال نہ باقاعدہ جنگ کی کیفیت میں ہے اور نہ ہی مکمل امن میں، بلکہ ایک ایسی "حالتِ جنگ” سے گزر رہا ہے جو ان دونوں کیفیتوں کے درمیان کہیں واقع ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ سمندری پابندیاں اور ناکہ بندی خود جنگی اقدامات کے مترادف ہیں، اس لیے ایران کی جانب سے اٹھایا جانے والا کوئی بھی جوابی قدم محض دفاعی نوعیت کا ہوگا۔

اسماعیل بقائی نے ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا مکمل کنٹرول برقرار ہے، اور عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا ذمہ دار صرف امریکہ ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب رپورٹس کے مطابق ایران اور خلیجی ممالک کے مابین آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے لیے محفوظ راستے کے قیام پر بات چیت جاری ہے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایران اور عمان کے مابین مذاکرات کے نتائج پر تبادلہ خیال کے لیے خلیجی ممالک کے ساتھ ایک علاقائی اجلاس بھی متوقع ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب سیٹلائٹ تصاویر سے سعودی عرب کی اہم مشرق-مغرب تیل پائپ لائن (پیٹرولائن) کے قریب مدینہ کے جنوب مشرق میں آتشزدگی سے متاثرہ انفراسٹرکچر کا انکشاف ہوا۔ یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی تیل کے کنوؤں کو مغربی بندرگاہ ینبع سے ملاتی ہے، جہاں سے تیل آبنائے باب المندب کے ذریعے دنیا بھر میں برآمد ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پائپ لائن آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کو کم کرنے کا ایک اہم ذریعہ رہی ہے، اس لیے اس پر ممکنہ حملہ خطے میں کشیدگی کی ایک نئی اور سنگین جہت کی نشاندہی کرتا ہے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل جولائی 2026 میں خلیجی تعاون کونسل کے تمام رکن ممالک اور اردن نے ایک مشترکہ بیان میں ایران اور اس کے اتحادی گروہوں کی جانب سے اپنی سرزمین پر کی جانے والی جارحیت کی شدید مذمت کی تھی۔ اس بیان میں تمام ممالک نے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے جائز اقدامات سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا، جبکہ آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری نقل و حرکت کی آزادی اور تحفظ کے عزم کا بھی اعادہ کیا تھا۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان کے آخر میں خبردار کیا کہ ایران کے خلاف اقدامات کے نتائج متعلقہ ممالک کو بھگتنے ہوں گے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں تحمل کی گنجائش مسلسل محدود ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بیان اس وسیع تر ایرانی مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے جو گزشتہ کئی ماہ سے سامنے آ رہا ہے، جس میں تہران بارہا خبردار کر چکا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اقتصادی دباؤ اور فوجی کارروائیوں میں اضافے کا جواب مزید شدت کے ساتھ دیا جائے گا۔

یہ تازہ بیانات دراصل اس وسیع تر جنگ کا حصہ ہیں جو فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے شروع ہوئی تھی۔ اس دوران ایران نے کئی خلیجی ممالک اور اردن کو بھی میزائل و ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا، جس کے جواب میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے مارچ میں ایران کی "سنگین جارحیت” کی مذمت میں قرارداد منظور کی تھی۔ اب آئی اے ای اے کی تازہ قرارداد اور ممکنہ سلامتی کونسل ریفرل کے بعد ایران کی جانب سے متعلقہ ممالک کو دی جانے والی یہ دھمکی خطے میں کشیدگی کے ایک نئے دور کی نشاندہی کرتی ہے۔

سفارتی مبصرین کے مطابق ایرانی ترجمان کا یہ بیان دراصل ایک دوہری حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے: ایک طرف ایران مذاکرات اور محفوظ بحری راستوں کے قیام پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے، تو دوسری طرف وہ اپنے مخالفین کو واضح فوجی و سفارتی نتائج کی دھمکی بھی دے رہا ہے۔ اگر ایران کی جانب سے سعودی عرب، اردن یا جاپان کے خلاف کوئی عملی اقدام اٹھایا جاتا ہے تو اس سے خطے میں پہلے سے جاری کشیدگی مزید بڑھنے کا قوی امکان ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی سفارت کاری دونوں پر پڑ سکتے ہیں۔