مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور حلقہ این اے-77 گوجرانوالہ سے رکن قومی اسمبلی چوہدری محمود بشیر ورک طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ اہلخانہ کے مطابق وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور کچھ عرصے سے لاہور کے ایک نجی اسپتال میں زیرِ علاج تھے، جہاں وہ 89 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کا شمار پارٹی کے سینئر اور نظریاتی رہنماؤں میں ہوتا تھا اور وہ نواز شریف کے دیرینہ ساتھی سمجھے جاتے تھے۔
چوہدری محمود بشیر ورک کا سیاسی کیریئر تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط رہا۔ وہ 1970 کی دہائی سے فعال سیاست کا حصہ تھے اور پیشے کے اعتبار سے وکالت سے بھی وابستہ رہے، جہاں انہوں نے اپنا الگ مقام بنایا۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل رہا کہ انہوں نے قیامِ پاکستان کا دور اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
مرحوم پانچ مرتبہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ وہ پہلی بار 1997 کے انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر حلقہ این اے-77 گوجرانوالہ سے کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد 2008 کے انتخابات میں حلقہ این اے-97 (گوجرانوالہ-III) سے دوسری بار، جبکہ 2013 کے انتخابات میں اسی حلقے سے بھاری اکثریت کے ساتھ تیسری بار رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ اسی دورِ حکومت میں وہ جنوری سے مئی 2018 تک وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف کے اہم منصب پر بھی فائز رہے۔ 2018 کے انتخابات میں نئی حلقہ بندیوں کے بعد اپنے آبائی علاقے پر مشتمل حلقہ این اے-80 (گوجرانوالہ-II) سے چوتھی مرتبہ کامیابی حاصل کی، جبکہ 2024 کے عام انتخابات میں حلقہ این اے-77 سے ایک لاکھ نو ہزار 704 ووٹ حاصل کر کے پانچویں بار رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ واضح رہے کہ اس مقابلے میں آزاد امیدوار راشدہ طارق نے 91 ہزار 825 جبکہ پیپلز پارٹی کے امیدوار امتیاز صفدر وڑائچ نے 17 ہزار 59 ووٹ حاصل کیے تھے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے فرائض بھی انجام دے رہے تھے۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ معروف عالمِ دین ثاقب رضا مصطفائی نے پڑھائی، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، خرم دستگیر، مختلف اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے علاوہ کمشنر، ڈپٹی کمشنر، سی پی او اور دیگر اعلیٰ حکام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مرحوم کی تدفین ان کے آبائی علاقے گکھڑ کے مقامی قبرستان میں کی گئی۔
نمازِ جنازہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ محمود بشیر ورک کے جانے کے بعد شہر کی سیاست میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جو پُر نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ورک صاحب ان چند لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے پاکستان بنتے دیکھا۔ عطا تارڑ نے مزید کہا کہ محمود بشیر ورک 1970 سے سیاست میں سرگرم رہے اور انہوں نے ہمیشہ صاف ستھری اور ایماندارانہ زندگی گزاری۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مرحوم کا آبائی گاؤں ان کے اپنے گاؤں سے ملحق تھا اور محمود بشیر ورک کی زندگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چوہدری محمود بشیر ورک کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک مخلص، باصلاحیت اور فعال پارلیمنٹیرین تھے، جن کی پارلیمانی، سیاسی اور سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی وفات سے پارلیمنٹ ایک فعال رکن سے محروم ہو گئی ہے۔ انہوں نے مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا بھی اظہار کیا۔
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ محمود بشیر ورک کی وفات پر انہیں دلی رنج پہنچا ہے۔ ان کے مطابق مرحوم پارٹی کے ایک مخلص، باوفا اور نظریاتی ساتھی تھے، جن کی جماعت کے لیے خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ نواز شریف نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو اس صدمے کو برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق چوہدری محمود بشیر ورک گوجرانوالہ میں مسلم لیگ ن کے مضبوط ترین ستونوں میں شمار ہوتے تھے، اور ان کا انتقال پارٹی کی مقامی سیاسی ساخت میں ایک نمایاں خلا پیدا کرے گا۔ ان کا حلقہ این اے-77 گوجرانوالہ کا وہ علاقہ ہے جہاں مسلم لیگ ن کی روایتی حمایت رہی ہے، اور اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ خالی نشست پر آئندہ ضمنی انتخاب میں پارٹی کس امیدوار کو میدان میں اتارتی ہے۔